: ظلم سے تباہ ہوتی ہیں :

سیدنا علیؓ نے فرمایا ہے کہ قومیں کفر سے تباہ نہیں ہوتیں، ظلم سے تباہ ہوتی ہیں۔
مجھے ہمیشہ اس بات پر انتہائی حیرانگی ہوتی تھی کہ اہل بغداد کس زوال کا شکار ہونگے، کیا ظلم ہوگا وہاں پر، کیا بے حیائی ہوگی، کیا بے غیرتی ہوگی کہ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا اظہار ہلاکو خان کو بھیج کر کیا۔ پندرہ لاکھ کی آبادی والے شہر میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑا۔جو زندہ بچ گئے وہ لونڈی اور غلام بنا کر فروخت کیے گئے، دجلہ پہلے خون سے سرخ ہوا اور پھر کتابوں کی سیاہی سے سیاہ، اور طویل عرصے تک سیاہ ہی رہا۔ دریا کی یہ سیاہی صرف کتابوں کی سیاہی نہ تھی، بلکہ اہل بغداد کے سیاہ اعمال بھی تھے کہ جن کی شہادت اب رہتی دنیا دی جانی تھی۔
آج جب میں پاکستان کو دیکھتا ہوں تو یقین کریں کہ میرے پورے وجود میں ایک سراسمیگی پھیل جاتی ہے۔ بغداد تو آج بھی اپنی جگہ پر قائم ہے، وہ اہل بغداد تھے کہ جن کا نام و نشان بھی مٹا دیا گیا۔ یہ پاکستان تو قائم رہنے کیلئے بنا ہے، اس نے تو قائم رہنا ہی ہے ان شاءاللہ، مگر مجھے خوف تو اہل پاکستان کے بارے میں ہے کہ کہیں ان کا بھی نام و نشان نہ مٹا دیا جائے۔
جس ظلم، خیانت، غداریوں، بدکرداریوں اور حرام خوریوں کی وجہ سے اللہ نے اہل بغداد پر توبہ کے دروازے بند کردیئے، آج من و عن اس سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اہل پاکستان انہی حرام کاریوں میں مصروف ہیں۔ اہل بغداد چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے، مگر داخلی انتشار کا یہ عالم کہ پوری اشرافیہ میں کوئی ایک بھی رجل الرشید ڈھونڈے سے بھی نہ ملتا تھا۔
آج پاکستان کا عین وہی حال ہے۔ چاروں طرف سے خونخوار دشمنوں میں گھرے، خونریز جنگ کا شکار اور بے شرمی اور بے حیائی کا ایسا عالم کہ کیا اشرافیہ اور کیا عوام، سبھی شہوت و حرام کاریوں میں مست بس بہے چلے جارہے ہیں، اندھے گونگے اور بہرے، یوں لگتا ہے جیسے اللہ نے ان پر توبہ کے دروازے ہی بند کردیئے ہیں۔
جن کے ہاتھ میں اختیار ہے وہی سب سے بڑے ظالم، چاہے حکومت میں ہوں، عدلیہ میں ہوں یا دیگر اشرافیہ میں۔ جن کے ہاتھ میں اختیار نہیں ہے وہ بھی غافل اور حرام خور۔ قحط الرجال کا ایسا عالم کہ اب شاید اس کا علاج اللہ ہلاکو خان سے ہی کرے۔
کوئی مادر پدر آزاد ہے حرام کاریوں کیلئے، اور کوئی ”آئین و قانون“ کے بہانے کرکے ہاتھ اور پاﺅں توڑ کر بیٹھا ظلم کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ ڈاکوﺅں کا بنایا ہوا آئین اور قانون کہ جس میں آئے دن اپنی مرضی کی ترمیمیں کرکے اپنے جرائم کو تحفظ دیا جائے، ایسے آئین و قانون سے بغاوت ہی لازم ہے۔
قومیں اور ریاستیں انصاف سے بنتی ہیں، نہ جمہوریت سے، نہ آمریت سے، نہ سڑکوں سے، نہ پلوں سے اور نہ ہی تعلیم سے۔ معاشرے میں عدل و انصاف مساوات قائم کرتے ہیں، کہ جو بنیاد ہے ایک انسانی معاشرے کی۔ اللہ کے حضور نہ تو جمہوریت کا سوال ہوگا، نہ آمریت ہوگا، نہ آئین کا ، نہ قانون کا، صرف یہ سوال ہوگا کہ جن کو اختیار دیا گیا تھا انہوں نے انصاف کیا؟ انہوں نے ظلم کو ہوتے دیکھا اور اختیار رکھتے ہوئے اس کو کیوں نہیں روکا؟ یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ دربار نبویﷺ میں، اللہ کے حضور، آج کے حکمرانوں اور اشرافیہ کا کوئی عذر کام نہیں آئے گا کہ جب ظلم و ستم کا ایسا بازار گرم ہو کہ انسانیت شرما کر زمین کے پیٹ میں غرق ہوچکی ہو۔
چاہے آج کوئی چیف جسٹس ہو، وزیراعظم ہو، مفتی اعظم ہو یا سپہ سالار۔۔۔۔۔ سب گہنگار ہیں، سب جوابدہ ہیں، سب اپنے اپنے اختیار اور طاقت کے مطابق اس ملک و قوم و ملت پر ظلم کررہے ہیں۔
جنگ طرابلس میں ایک بچی فاطمہ بنت عبداللہ شہید ہوئی۔ اقبالؒ نے اس ایک بچی پر جو مرثیہ لکھا اس نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو خون کے آ نسو رلا دیئے۔ آج ہزاروں ”فاطمہ بنت عبداللہ“ کشمیر سے لیکر فلسطین تک، عراق سے لیکر برما تک، روز ذبح کی جارہی ہیں، مگر اس ملت پاکستان کے بے شرم اور بے غیرت حکمرانوں کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ عوام کے بھی مخصوص حلقوں میں تھوڑی بہت ہلچل ہے، مگر باقی قوم اسی طرح خواب غفلت میں مست، جمہوریت کے پجاری، اللہ اور اسکے رسولﷺ سے غافل۔
اللہ اس ملک کو اس حال میں کبھی بھی نہیں چھوڑے گا۔ جو تقدیر اس نے اس پاک سرزمین کیلئے لکھ دی ہے اس میں راہ میں وہ کسی جمہوریت، کسی پٹواری، کسی زرداری یا فضلو کو نہیں آنے دے گا۔ اس نظام پر اور اس کے چلانے والوں پر تو توبہ کے دروازے بند ہوچکے ہیں۔ اب یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ہلاکو بھیجتا ہے، سیلاب بھیجتا ہے، خانہ جنگی بھیجتا ہے، بھوک اور خوف کا عذاب بھیجتا ہے یا خوارج و مشرک کے ہاتھوں اس بے خبر اور غافل قوم کو بیدار کرتا ہے یا تباہ کرتا ہے۔ یہ نظام اور اسکے چلانے والے بہرحال اب لعنتی ہوچکے ہیں۔
اللہ تعالیٰ بہانے نہیں سنتا، کام کا نتیجہ مانگتا ہے۔ وہ بے شرموں، بے غیرتوں اور بے حیاﺅں کا رب ہی نہیں ہے، وہ شیروں، دلیروں اور غیرت مندوں کا رب ہے۔ خدائے زندہ، زندوں کا خدا ہے!
اس پاکستان کی حفاظت کرنا حقیقت میں سیدی رسول اللہﷺ کی خدمت کرنا ہے۔ اس پاکستان سے خیانت کرنا سیدی رسول اللہﷺ سے خیانت کرنا ہے۔
جس طرح سیدنا ابوبکرصدیقؓ نے دیگر صحابہ کرام سے فرمایا تھا کہ اگر مجھے اکیلے بھی جا کر منکرین زکوٰة کے خلاف جہاد کرنا پڑا تو میں اکیلا ہی جاﺅں گا، بالکل اسی طرح آج ہم بھی یہ کہتے ہیں اگر ہمیں اکیلے ہی سیدی رسول اللہﷺ کے اس مدینہءثانی کی حفاظت کیلئے لڑنا پڑا تو ہم آخری دم تک لڑیں گے، آخری سانس تک اس پاک سرزمین کے نظریے، سبز ہلالی پرچم اور جغرافیے کا دفاع کریں گے، مگر افسوس، صد افسوس ان حکمرانوں پر، اس اشرافیہ پر کہ جس ہاتھ میں آج اللہ نے اس پاک سرزمین کا اختیار دیا ہے اور انہوں نے خود ذلت و خواری و رسوائی کی زندگی قبول کی ہے۔ ناپاک حکمرانوں کی بداعمالیاں اب اسی طرح ہمارا خون بہائیں گی کہ ” کبھی دجلہ سرخ ہوگا اور کبھی سیاہ“۔
#زاہد_حامد