: کامیابی – تحریر قاسم علی شاہ :

مجھے ایک عظیم بزنس مین کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

اس انٹرویو میں اس نے دلچسپ باتیں کہیں۔

*”دنیا میں نوکری کرنے والا کوئی شخص خوشحال نہیں ہو سکتا۔”*

*”انسان کی معاشی زندگی تب شروع ہوتی ہے جب وہ اپنے کام کا آغاز خود کرتا ہے۔”*

?اسکی دوسری بات

*”کامیابی اور ترقی کا تعلیم سے کوئی تعلق نہیں۔”*

*”اگر تعلیم سے روپیہ کمایا جا سکتا تو آج دنیا کا ہر پروفیسر ارب پتی ہوتا۔”*

1111

*”اس وقت دنیا میں ساڑھے نو سو ارب پتی ہیں۔”*

*”ان میں سے کوئی بھی پروفیسر ،ماہر تعلیم شا مل نہیں۔”*

*”دنیا میں ہمیشہ درمیانے پڑھے لکھے لوگوں نے ترقی کی۔”*

یہ لوگ وقت کی قدروقیمت سمجھتے ہیں اور یہ لوگ ڈگریاں حاصل کرنے کی بجائے طالب علمی کے دور میں ہی کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔

*”کامیابی ان کو کالج یا یونیورسٹی کی بجائے کارخانے یا منڈی میں لے جاتی ہے۔”*

میں زندگی میں کبھی کالج نہیں گیا۔

Business people group works at a table - Table

*”میری کمپنی میں اسوقت اعلی تعلیم یافتہ 30 ہزار مرد اور خواتین کام کرتے ہیں*

*یہ تعلیم یا فتہ لوگ مجھ سے وژن، عقل اور دماغ میں بہت بہتر ہیں لیکن ان میں نوکری چھورنے کا حوصلہ نہیں۔*

انہیں اپنے اور اپنی صلاحیتوں پر اعتبارنہیں۔

“اگرکوئی شخص میرے لیے کام کر سکتا ہے تو وہ اپنےلیے بھی کر سکتا ہے۔”

* ?بس اس کے لیے زرا سا حوصلہ چاہیے۔*

*”دنیا میں ہر چیز کا متبادل موجود ہے لیکن محنت کا نہیں۔”*

◦ *”دنیا میں نکمے لوگوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں لیکن کام کرنے والوں کے لیے ساری دنیا کھلی پڑی ہے۔”*

success