: سقراط (Socrates):

سقراط فکر و فلسفے کی تاریخ کے باب اول کے منصب پر فائز ہے۔ اس عظیم شخصیت نے اپنی گفتگو اور مکالمے کے ذریعے فہم و ادراک کے دفتر کے دفتر کھولے مگر کا غذ پر ایک حرف تک نہیں لکھا۔ سقراط کے افکار و خیالات اس کے شاگرد افلاطون کے ذریعے دنیا تک پہنچے۔ مغربی فلسفے کو نہایت گہریئی میں متاثرکرنے والا یہ فلسفی کثیر الجہات خصوصیات کاحامل تھا۔
سقراط یونان کے معروف شہر ایتھنز میں پیدا ہوا۔ اس کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تحریری شواہد شواہد ناپید ہیں۔ تاہم افلاطون اور مابعد فلاسفہ کے حوالے بتاتے ہیں کہ وہ ایک مجسمہ ساز تھا، جس نےحب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر کئی یونانی جنگوں میں حصہ لیا اور دادِ شجاعت پائی۔ تاہم اپنے علمی مساعی کی بدولت اُسے گھر بار اور خاندان سے تعلق نہ تھا۔احباب میں اس کی حیثیت ایک اخلاقی و روحانی بزرگ کی سی تھی۔ فطرتاً سقراط، نہایت اعلیٰ اخلاقی اوصاف کا حامل، حق پرست اور منصف مزاج استاد تھا۔ اپنی اسی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث اخیر عمر میں اس نے دیوتاووں کے حقیقی وجود سے انکار کردیا، جس کی پاداش میں جمہوریہ ایتھنز کی عدالت نے 399 قبل مسیح میں اسے موت کی سزا سنائی۔اور سقراط نے حق کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا۔
اس کا کہنا تھا کہ “اپنے آپ کو پہچانو”۔ سقراط نے کسی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی استاد تھا۔ وہ زندگی کی کتاب کا تغور مطالعہ کرتا، اپنے مشاہدات کی دور بین سے چیزوں کو دیکھتا اور اپنی سوچ کی جوت جگاتا۔ اس کے ذہین میں سوال ابھرتے رہتے وہ لوگوں سے ان کے جواب پوچھتا ۔ سوال در سوال کا سلسلہ جاری رکھتا اور آخر کار اس کو اپنی منزل مل گئی۔ حقائق اور سچائیاں اس پر منکشف ہو تی چلی گیئں۔ اس کے عمل جستجو میں ہر ایک ہر ایک چیز کی وجہ اس کی ابتدا اور انتہا جاننے کی خوہش میں اس پر حیات وکائنات کے اسرارور موز کھلتے گئے۔ اس کا استفسار تھا کہ سقراط پہلا یونانی فلسفی تھا۔ جس نے اللہ کے ایک ہونے کا تصور دیا اور اسے “عقل کل” کہا۔ یہاں یونان کے دیو مالائی عقائد (گریک میتھوڈولوجی) کا حوالہ یاد رکھنا چاہیے جس کے مطابق مظاہر فطرت کے جداگانہ دیوتا اور بھگوان ہوتےتھتے۔ اس تاریخی تناظر میں سقراط کا خدا کے تصور کا ادراک، غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔
“یہ کیا ہے؟” سقراط کے نزدیک گویا ایک چابی تھی جس اس نے چیزوں کع ماہیت اور اصلیت کا تالا کھولا اور اپنی منزل پائی اور فلسفے کی ٹھوس بنیاد دکھی جس پر عہد قدیم سے عہد جدید تک کے فکر و فلسفے کی عمارت کھڑی ہے۔ سقراط نے سوال کیے، دلائل دیے اور انسانوں کو اندھیروں سے روشنی کی طرف لے گیا۔ اس کا روشنی کی جانب یہ سفر ظلمات سے متصادم ہوا اور اس نے زندگی کی قیمت پر یہ نبرد آزمائی کی۔ سقراط اور زہر کے پیالے کا رشتہ، شعر وادب میں ایک استعارہ اور تلمیح بن چکا ہے۔
ایتھنز کے لوگوں کو سقراط پر سب سے پہلا اور بڑا اعتراض یہ تھا کہ اس نے نوجوان نسل کے اخلاق کو بگاڑ دیا ہے۔ سقراط کے مداح اور نعتقدین زیادہ تر نوجوان لڑکے تھے۔ یہ امر واقعہ ہے کہ سقراطنے کھل کر دیوتائوں پر تنقید کی اور ایک خدا کا تصور پیش کیا جوایتھنز کے لوگوں کے لیے ناقابل قبول تھا۔
ایتھنز کی اسمبلی کے فصلوں پر اس نے کھل کر تنقید کی اور ان قوانین کو للکارا جو انسانی حقوق کے قاتل تھے۔ خوداسمبلی کی حیثیت کے حوالے سے اس کا کہنا تھا کہ ” اسمبلی، احمقوں، معذوروں، ترکھانوں، لوہاروں، دکان داروں اور منافع خوروں پر مشتمل ہے جو ہر وقت یہ سوچتے رہتے ہیں کہ سستی چیز مہنگے داموں کیسے بیچی جائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے عوام کے مسائل بارے کبھی نہیں سوچا۔”
چنانچہ حکومت اور حکومت سے متعلق لوگ اس کے خلاف ہوگئے۔ اور اس کو عدالت بلا لیا گیا جہاں سقراط نء ہنس کراور بڑے سکون اور اعتماد کے ساتھ خود پر لگے الزامات کو رد کیا۔ سقراط کے یہ الفاظ صداقت عامہ بن گئے۔
“اے ایتھنز کے لوگو! تمھیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا اور کچھ عرصے بعد تمھیں احساس ہو گا کہ تم نے ایک عقل مند آدمی کو موت کے گھٹ اتاردیاہے۔” اور پر اس نے یہ الفاظ کہ۔ “اگر میں جان بچا کر بھاگ گیا تومرجائوںاور زہرپی کر مر گیا تو قیامت تک زندہ رہوں گا۔”
سقراط کو اپنے ام ہونے کا جو یقین تھا، وہ وقت نے سچ ثابت کر دیا۔
سقراط اکثر خواب میں ایک پرندہ دیکھتا جو ایک مدھر گیت گاتا تھا۔ اس کع چونچ میں پھولوں کا ایک ہار ہوتا جو وہ سقراط کے گلے میں ڈال دیتا اور پھر غائب ہو جاتا۔ ایک دن سقراط ایتھنز کے بازار سے گزر رہا تھا کہ سامنے سے ایک خوب رونوجوان آتا دکھائی دیا جو وہی پرندے والا گیت گارہا تھا۔ سقراط اس نوجوان کی طرف پڑھااور اسے گلے لگا لیا۔
اس خوب رونوجوان کے بارے میں ہم اگلی تحریر میں بتائیں گے کہ وہ کون تھا۔