: سعودی عرب اور قطر :

قطر کا معاملہ اور ہے اختلاف کی اصل بنیاد تاریخی ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہونی۔ قطر اکہتر سے پہلے متحدہ امارات کی ایک ریاست تھی اور تب اس اتحاد کا نام عرب امارات مصالحین تھا۔ یعنی موجودہ متحدہ عرب امارات میں جب قطر بھی تھا تب اسکا نام عرب امارات مصالحین تھا۔ پھر قطر نے الگ ملک بنا لیا تو جو ابوظہبی اور قطر کے بیچ سرحدی علاقہ تھا جسکا نام غیاثی اوربیت الغمیس ہے اس پر سعود خاندان نے راتوں رات قبضہ کر لیا کیوں کہ وہ تیل اور گیس سے بھرپور صحرا ہے۔
اب قطر اور ابوظہبی کی زمینی سرحد نہیں ہے جو تھی اس پر سعود خاندان قابض ہے۔ اسلیے عربوں میں پہلی بار امریکی فوج قطر نے سعود خاندان سے تحفظ کے لیے بلائی تھی۔ یہ ہے وہ بنیادی اختلاف جو سعود خاندان کے خلاف قطریوں کے دل سے کبھی نہیں گیا۔
تنازعے کے بعد قطریوں نے پہلا معاہدہ کر کے امریکی فوج بلائی تھی کیونکہ سعودیہ کے پاس اس وقت تک برطانوی فوج تھی۔ بعد میں سعودیہ نے بھی امریکی فوج بلا لی اور یوں امریکہ ان دونون کو ایک دوسرے سے ڈرا کر خود سالانہ بلین ڈالرز کھاتا رہا۔ سعود خاندان اورقطر میں تنازعہ کی بنیاد میں سعود خاندان کا وسائل لوٹنے کا لالچ تھا اور اس لالچ سے امریکہ فائدہ اٹھا کر پچھلے کئی سالوں میں اربوں ڈالر کما چکا ہے اور اب مزید اربوں ڈالر کما رہا ہے۔ نیز امریکہ کا جھکاؤ سعودیہ کی طرف جیسے جیسے بڑھتا گیا عدم احساسِ تحفظ کی بناء پر قطر کا جھکاؤ خودبخود ایران کی طرف ہوتا گیا جو کہ امریکہ اور سعود خاندان دونوں کےلیے ناقابلِ قبول تھا۔ اور شائد شاہی خاندان نیچے لگ کے رہنا قطر کو بھی قبول نہیں تھا۔
موجودہ سعود خاندان اپنے برتری کے زعم میں یا کسی بھی دیگر وجہ سے ایک خاص طرح کے غرور میں مبتلا ہے۔ جو کسی کو بھی خاطر میں نہیں لا رہا اس حقیقت کے باوجود کہ آلِ سعود کی جنگی صلاحیتیں صومالیہ کے باغیوں جتنی بھی نہیں ہیں۔ جب تک کنگ عبداللہ سعودی عرب کے سربراہ رہے عرب ایران تنازعہ کبھی اتنا نہیں بڑھا کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ امت کی لڑائی کا نقصان بہرحال امت کو ہی ہو گا۔ ان کے آنکھیں بند کرتے ہی جب سے کمان کنگ سلمان کے ہاتھ میں آئی ہے امت کی تقسیم کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سعودیہ کا فرمان روا ہونے کی حیثیت سے امت کی مجموعی قیادت کی بھاری زمہ داری بھی شاہ سلمان کے کندھوں پر ہے۔ اگر ایک ایک کر کے غیر ہم خیال ممالک کو شاہ سلمان بے دخل کرتے رہے تو انجام کیا ہو گا؟ کثیر تعداد میں مسلم ممالک آلِ سعود کے خلاف ہو جائیں گے اور بالاخر اس بادشاہی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ایسا نہ ہوا تو بھی شاہی خاندان سعودیہ کو تنہائی کا شکار کر دے گا اور بالاخر امریکہ سعودیہ کے معاملات میں اب سے دس گنا زیادہ دخیل ہونا شروع کر دے گا۔
تحریر۔ سگین زادران،
post 58-2