: نظریات کا ٹکراؤ، آخری عالمی جنگ اور پاکستان :

اس وقت پوری دنیا میں ایک ایسا فساد پربا ہے جو انسان نے اپنی تاریخ میں نہیں دیکھا۔
یہ فساد نہ صرف انسانوں کو تباہ کر رہا ہے بلکہ جانوروں ، درختوں، سمندر کے پانیوں، ہواؤوں حتی کی سورج کی روشنی تک کو متاثر کر چکا ہے ۔ تباہ کن جنگوں، بے پناہ آلودگی اور ناقابل علاج بیماریوں کی شکل میں۔
بہت سے لوگ اس فساد کی وجہ انسانوں کے درمیان مادی وسائل کے حصول کی جنگ قرار دیتے ہیں لیکن میرے خیال میں اس کی اصل وجہ چند نظریات ہیں جن کی تکمیل کے لیے ” وسائل ” پر کنٹرول کی جنگ ہو رہی ہے۔ اور شائد اب ان نظریات کا آپس میں خوفناک ٹکراؤ قریب ہے ۔
اس کو ایک مضمون میں نہیں سمیٹا جا سکتا۔ اس کو مختصر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور صاحب علم اور صاحب دل افراد کو تحقیق کی دعوت ہے۔
اس میں پہلا اور بدنام زمانہ نظریہ یہودی صہیونیت کا ہے۔ اس کے مطابق عنقریب یہودیوں کی پوری دنیا میں حکومت قائم ہوجائیگی۔ اگر یہ لوگ اسرائیل کا وجود اتنا بڑا کر لیں جتنا انکے عروج کے دور میں تھا یعنی سعودی عرب میں مدینے تک، مصر، ایران ،عراق، اردن ،لبنان، شام اور لیبیا تک کا سارا علاقہ۔ تب خدا خود انکی مدد کے لیے اترے گا جسکی ایک آنکھ ہوگی اور وہ انکو پوری دنیا پر غالب کر دے گا۔
اس اکلوتے آنکھ والے خدا کے استقبال کے لیے انکی تیاریاں خفیہ طور پر جاری ہیں۔ وہ پوری دنیا کی دولت اور میڈیا پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں اور تقریباً تمام مغربی ممالک انکے اشاروں پر ناچتے ہیں ۔
انہی مقاصد کے حصول کے لیے انہوں نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کروائی اور بے پناہ مالی فوائد حاصل کیے۔ اسرائیل حاصل کیا ۔ میڈیا پر کنٹرول کے ذریعے دنیا بھر کے انسانوں کو تعیشات سے آشنا کیا اور اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک مشینی بلکہ شیطانی زندگی کا آغاز کروایا جہاں کسی کو خدا یاد نہیں۔ وہاں زندگی کا مقصد محض لذت کا حصول رہ گیا ہے۔ ان تعئشات کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر میں بے پناہ صنعتیں قائم کیں جس نے بالاآخر تباہ کن ماحولیاتی آلودگی کو جنم دیا۔ فیکٹریوں میں جب مزدور کم پڑ گئے تو وومنز لب کے نام پر عورتوں کو گھروں سے باہر نکالا۔ ماحولیاتی آلودگی سے لے کر ٖمعاشرتی اور سماجی آلودگی تک ۔
دوسری طرف عیسائی ہیں جن کا عقیدہ ہے کہ بالاآخر حضرت عیسی (ع) دنیا میں دوبارہ تشریف لے آئینگے اور پوری دنیا پر عیسائیوں کی حکومت قائم کر دیں گے۔ اینٹی کرائسٹ (دجال) کو قتل کریں گے ۔
ان عیسائیوں کو یہودیوں نے باور کرایا ہے کہ جب تک ایٹنی کرائسٹ (دجال) نہیں آئے گا تب تک عیسی (ع) بھی تشریف نہیں لائنگے اور اینٹی کرائسٹ تب ہی آئے گا جب گریٹر اسرائیل بن جائگا یعنی اسرائیل اتنا پھیل جائیگا جتنا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ لہذا گریٹر اسرائیل کے قیام میں ہماری مدد کریں۔
کچھ عیسائی انکے اس بہکاوے میں آکر ان سے مل گئے۔ ان کو نیوکونز کرسچن زائنسٹس کہا جاتا ہے ۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ بش نے آرمجدون کے نام سے ایک آخری بڑی جنگ کا ذکر کیا تھا۔ آپ کو یہ نظر نہیں آتا امریکہ و یورپ اسرائیل کے معاملے میں کسی کی نہیں سنتے کیوں ؟؟
تیسرا نظریہ اکھنڈ بھارت کا ہے۔ آج سے کوئی 2500 سال پہلے ہندوؤں کا ایک بادشاہ گزرا ہے جسکا نام اشوکا تھا اسنے ہندوؤں کی بہت بڑی ریاست قائم کر لی تھی ۔۔ جس میں موجودہ انڈیا کے علاوہ پاکستان، کشمیر، بھوٹان، نیپال ، برما، سری لنکا اور افغانستان کے کچھ علاقے شامل تھے اسکو اکھنڈ بھارت کہا جاتا ہے۔ ہندو وہ ریاست دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اکھنڈ بھارت بنانا انڈیا کا خواب ہے یہی وجہ ہے کہ وہ آج تک اشوکا دور کی علامات کو استعمال کرتے ہیں انکے پاسپورٹ پر تین شیروں کا نشان اور جھنڈے پر پہیے کا نشان اشوکا ہی کے دور کی علامات ہیں۔ اپنے ارد گرد کی ریاستوں کو ہڑپ کرنے کے لیے وہ اشوکا کے داد چندر گپت موریا کے ایک عیار وزیر چانکیا کی فلاسفی کی پیروی کرتے ہیں اور اسکی لکھی ہوئی کتاب ارتھ شاستر میں بیان کیے گئے اصولوں کے مطابق یہ اپنے جنگی اور سٹریٹیجک پلان بناتے ہیں۔
ایک طرف گریٹر اسرائیل بنانا یہودیت اور عیسائیت کی مشترکہ ضرورت ہے تو دوسری طرف اکھنڈ بھارت بنانا انڈیا کا خواب ۔ لیکن۔ اتنی بڑی بڑی طاقتوں کی پشت پناہی کے باؤجود یہ اب تک کر کیوں نہیں پائے ؟؟
دنیا میں ایک اور نہایت طاقتور اور بے مثال نظریہ بھی موجود ہے جو انکے راستے کی واحد اور سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج سے کوئی 80 سال پہلے ایک عظیم مدبر ، فلسفی اور دانشور جن کو ایک عالم اللہ کا ولی مانتا ہے نے ایک نظریہ پیش کیا تھا مسلم قومیت پر مبنی ایک ایسی ریاست کا جو اسلام کا مرکز اور پوری امت مسلمہ کا قلعہ بن سکے ۔ جہاں سے اسلام کو دوبارہ عروج ملے اور وہ پوری دنیا پر چھا جائے۔
کئی احادیث میں موجود اشاروں ، بزرگوں کی پشن گوئیوں اور بہت سے شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک اللہ کے فضل سے ہمارا وطن عزیز پاکستان ہے۔
جو اسوقت دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہے۔ جسکی ایک انتہائی طاقتور، بہادر اور بے مثل فوج ہے۔ جو دنیا بھر میں جہاد اور مجاہدین کا مرکز ہے۔ جو دنیا بھر میں دعوت و تبلیغ کا مرکز ہے اور جو گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت کے راستے میں حائل آخری اور سب سے سخت چٹان ہے۔
یہ محض مبالغہ آرائی نہیں۔ آپ اس پر تحقیق کیجیے!
گریٹر اسرائیل کے راستے میں پاکستان کیسے حائل ہے۔ اسکی لمبی تفصیل ہے لیکن مختصر یہ کہ اسرائیل کم از کم تین بار اپنی یہ کوشش کر چکا ہے اور تینوں بار پاکستان کے ہاتھوں اسکو ہزمیت اٹھانا پڑی۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو اسرائیل کے بیس سے زائد جنگی جہاز گرا چکا ہے۔ اور اسرائیل جانتا ہے کہ مدینہ پر تب تک قبضہ نہیں ہوسکتا جب تک ایک ایٹمی پاکستان کا وجود قائم ہے۔
یہی حال انڈیا کا ہے۔ صرف پاکستان کی وجہ سے اب تک انڈیا اپنی سات لاکھ فوج کے ساتھ محض کشمیر کو کنٹرول نہیں کر سکا اور سری لنکا میں اپنی تامل ٹائیگرز کی تحریک سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ جب تک پاکستان کا کانٹا بیچ میں سے نہیں نکلے گا اکھنڈ بھارت نہیں بن سکتا۔ انڈیا کے اکھنڈ بھارت بننے کے راستے میں حائل چٹان بھی پاکستان ہی ہے
چونکہ ہندومت ،عیسائیت اور یہودیت کا دشمن مشترک ہے لہذا پاکستان کے خلاف انکا آپس میں اتحاد ہوچکا ہے جسکا مشاہدہ آپ اچھی طرح کر رہے ہیں۔ یہ مادے کی نہیں بلکہ نظریات کی جنگ ہے اور عنقریب ان نظریات کا آپس میں خوفناک ٹکراؤ ہونے والا ہے جو شائد آخری بڑی جنگ ہو۔
اس جنگ میں پاکستان کی افواج اور مجاہدین فیصلہ کن کردار ادا کریں گے انشاءاللہ۔ جو پوری دنیا کا نقشہ بدل دیگی۔
آپ کے ذہن میں یہ سوال ضرور آنا چاہئے کہ اتنی بڑی طاقتوں کے سامنے پاکستان اب تک بچا ہوا کیسے ہے ؟
اگر مختصر ترین لکھا جائے تو جواب یہ ہے کہ پاکستان کے بارے میں شروع میں امریکہ کا یہ خیال تھا کہ جب ضرورت پڑی گی اس کانٹے کو مشترکہ حملے کے ذریعے ہٹا دیا جائے گا لیکن جب تک روس کا وجود ہے اس وقت تک پاکستان کو ختم کرنا صحیح نہیں۔ اللہ نے یہ کیا کہ جیسے ہی روس ختم ہوا پاکستان ایٹمی طاقت بن گیا۔ تب پاکستان پر براہ راست حملہ کرنا ممکن ہی نہ رہا۔ دوسری طرف انڈیا اور اسرائیل کو پاک فوج نے روکے رکھا۔لہذا اسکو سازش ، بغاوتوں اور اندرونی خانہ جنگیوں کی مدد سے توڑنے پر اتفاق ہوا جس پر آج تک کام جاری ہے۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ” پاکستان اسلام کا آخری قلعہ ہے ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “پاکستان اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے” وہ ویسے ہی نہیں کہتے اسکی بڑی مضبوط وجوہات ہیں اور ہم پر اس قلعے کی حفاظت فرض ہے۔
یہ بات سمجھ لیں کہ افواج پاکستان ، نیوکلیر ہتھیار اور آئی ایس آئی میں سے کسی ایک کو بھی نکال دیں تو پاکستان کو ختم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ۔۔ افواج کے بغیر نیوکلیر ہتھیار بے کار ہیں اور جدید دور میں ان ہتھیاروں کے بغیر افواج بے بس۔ اور آئی ایس آئی ہماری آنکھیں اور کان ہیں۔ یہ فوج ہم ہی میں سے ہے اسلئے گنانہگار بھی ہوگی اور غلطیاں بھی کرے گی لیکن پاکستان کی حفاظت کا کام یہ پوری تندہی سے سرانجام دے رہی ہے یہی وجہ ہے کہ کفر کی مشترکہ طاقت اب تک پاکستان کو ختم کرنے ٰمیں ناکام ہے۔
واللہ پاک فوج کو ہٹا دیں تو حالت یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے جنگجو عوام یعنی ساٹھ لاکھ قبائل کو انڈیا نے محض اپنے چند ہزار دہشت گردوں کی مدد سے صرف چند مہینوں میں سرنڈر کروا لیا تھا اور کسی میں دم مارنے کی جرات نہیں تھی۔
وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اسی لیے آپ نوٹ کیجیے مشرکین اور عیسائیوں سے مدد لینے والے خوارج اور سیکولرز دونوں پاک فوج پر حملہ آؤر ہیں۔
اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھتے ہوئے کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ جو پاکستان کو نقصان پہنچائے گا وہ اللہ کے خلاف لڑے گا اور جو افواج پاکستان کو نقصان پہنچائے گا وہ اللہ کے دشمنوں کی مدد کرے گا۔
یہ مادی جنگ نہیں ہے یہ نظریات کی جنگ ہے۔
یہ شیطان اور رحمان کی جنگ ہے۔
خیر اور شر کی جنگ ہے۔
اب آپ نے فیصلہ کرنا کہ آپ کس کے ساتھ ہیں ۔

Post 50-2

Post 50-1