#MisYou

‎ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی سیریز کے بعد انضمام الحق ایک پروگرام میں رمیز راجہ کے مہمان تھے۔ رمیز نے انضمام سے سوال کیا کہ فلاں فلاں تجزیہ نگار نے آپ کی تکنیک، کپتانی کے اپروچ اور طریقہ پر یہ یہ اعتراض کیا ہے۔ انضمام نے حسب روایت اپنے دھیمے لہجے میں پوچھا، “رمیز بھائی یہ جونسے مجھ پر تنقید کر رہے ہیں انہوں نے کتنے ٹیسٹ کھیلے ہیں”؟ اس پر ایک زوردار قہقہہ پڑا۔
‎ایک دو ٹیسٹ اور دو چار ون ڈے کھیلنے والے کرکٹ تجزیہ نگار جب یونس خان اور مصباح کو طنزیہ ہنسی کے ساتھ نام لئے بغیر “بوڑھے” مخاطب کرتے تھے تو میں سوچتا رہتا تھا کہ ایک دن آئے گا جب یہ بوڑھے ریٹائرڈ ہونگے۔ آج وہ دن آن پہنچا۔ اب دیکھتی آنکھوں سے اس دن کا انتظار کیا کریں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹیسٹ میں کسی بھی اننگز میں 300 کا ہندسہ عبور کرے گی۔
‎مصباح الحق کو ٹک ٹک کے ساتھ بزدل کپتان کہا گیا مگر تاریخ گواہ ہے کہ مصباح الحق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے
‎کامیاب ترین کپتان تھے اور ٹیم کو پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار نمبر ون پر لائے۔ صرف یہی نہیں بلکہ یہ ایسے واحد کپتان ہیں جنہیں اپنے ہوم گراؤنڈ پر تقریبا ٹیسٹ کھیلنے کا موقع نہیں ملا مگر اس کے باوجود کامیاب ترین کپتان رہے۔
‎یونس خان کو ہمیشہ انڈر ریٹ کیا گیا۔ کہا گیا کہ سٹائل نہیں ہے۔ کہا گیا کہ نیچرل ٹیلنٹ نہیں ہے۔ اس کے باوجود یونس خان، جاوید میانداد، انضمام الحق، محمد یوسف اور کئی سارے ناموں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ صرف انہی کو پیچھے نہیں چھوڑا بلکہ پاکستانی کرکٹ کے عظیم ترین بیٹسمین ثابت ہوئے۔ جس دور میں یونس خان کو بوڑھا کہا گیا تب پاکستانی ٹیم کے غیر ملکی کوچ یونس خان کو ٹیم میں سب سے زیادہ فٹ کھلاڑی قرار دے رہے تھے۔
‎ایک عظیم سنہری دور تھا جو کچھ دن پہلے اپنے اختتام کو پہنچا۔ اب بہت مدت تک پاکستانی ٹیسٹ ٹیم شاید ہی کسی اننگز میں 300 کا ہندسہ عبور کر سکے۔ کبھی یہ دن آ بھی جائے گا مگر مصباح الحق اور یونس خان کا ریکارڈ شاہد آفریدی کی سینچری نہیں ہے کہ جس دن بلا چل گیا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔ مصباح اور یونس کا ریکارڈ توڑنے کے لئے سر جھکا کر سخت دھوپ میں بیس بیس سال کی محنت، کمٹمنٹ اور صرف اپنے کھیل پر توجہ درکار ہو گی⁠⁠⁠⁠

#misyou