سوچ کی مثبت سمت۔

ایک دن مجھے ایک عجیب سی ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک شخص گاڑی میں بیٹھا تھا اور اس نے گاڑی کے دروازے کا شیشہ کھولا ہوا تھا کہ اچانک ایک اور شخص گاڑی کے پاس سے گزرا تو گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے شخص نے اسے روکا اور کہا کے میرا پرس نیچے گر گیا ہے ۔ مہربانی کر کے مجھے اٹھا دیں۔ اس شخص نے ایک عجیب سی نظر سے اسے دیکھا اور نہایت ہی مغروری لہجہ میں اس سے کہا کہ میں کیوں اٹھا کر دوں خود ہی اٹھا لو۔ اور وہ چلا گیا ۔ اتنے میں ایک اور شخص ساتھ سے گزرا اور اس نے سب سنا اور اس نے بغیر کچھ کہے ہی وہ بٹوا اٹھا کر اسے دیا اور اسے پکڑنے کے لیے کہا۔ تو اس شخص نے جو گاڑی کے اندر بیٹھا ہوا تھااس نے جواب دیا کے میرے ہاتھ ہی نہیں ہیں اپ اسے میری جیب میں ڈال دیں۔ اتنا سنتے ہی پہلے والا شخص جس نے مغروری میں انکار کر دیا تھا وہ پلٹا اور اس شخص سے معافی مانگنے لگا۔
بہت دنوں پہلے میں نے ایک قصہ پڑھا تھا جس سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس سے میری سوچ کو مثبت سمت ملی ۔ائیے میں وہ قصہ آپ کو سنناتا ہوں۔
اشفاق احمد کی کتاب زاویہ 2 سے۔

بہت عرصہ پہلے میرے علاقے میں ایک انتہائی ماڈرن قسم کی بیوہ عورت وہاں آ کر رہنے لگی اس کے دو بچے بھی تھے – ہم نے دیکھا کہ ایک عجیب و غریب کردار آکر ہمارے درمیان آباد ہو گیا ہے – اور اس کا انداز زیست ہم سے ملتا جلتا نہیں ہے ایک تو وہ انتہائی اعلیٰ درجے کے خوبصورت اور باریک کپڑے پہنتی تھی ، پھر اس کی یہ خرابی تھی کہ وہ بڑی خوبصورت تھی تیسری اس میں خرابی یہ تھی کہ اس کے گھر کے آگے سے گزرو تو خوشبو کی لپٹیں آتی تھیں –
اس کے جو دو بچے تھے وہ گھر سے باہر بھاگتے پھرتے تھے ، اور کھانا گھر پر نہیں کھاتے تھے – لوگوں کے گھروں میں چلے جاتے اور جن گھروں میں جاتے وہیں سے کھا پی لیتے – یعنی گھر کی زندگی سے ان بچوں کی زندگی کچھ کٹ آف تھی –
اس خاتون کو کچھ عجیب و غریب قسم کے مرد بھی ملنے آتے تھے – گھر کی گاڑی کا نمبر تو روز دیکھ دیکھ کر آپ جان جاتے ہیں – لیکن اس کے گھر آئے روز مختلف نمبروں والی گاڑیاں آتی تھیں – ظاہر ہے اس صورتحال میں ہم جیسے “بھلے آدمی” اس سے کوئی اچھا نتیجہ نہیں اخذ کر سکتے –
اس کے بارے میں ہمارا ایسا ہی رویہ تھا ، جیسا آپ کو جب میں یہ کہانی سنا رہا ہوں ، تو آپ کے دل میں لا محالہ اس جیسے ہی خیالات آتے ہو نگے – ہمارے گھروں میں آپس میں چہ میگوئیاں ہوتی تھیں کہ یہ کون آ کر ہمارے محلے میں آباد ہو گئی ہے –
میں کھڑکی سے اسے جب بھی دیکھتا ، وہ جاسوسی ناول پڑھتی رہتی تھی – کوئی کام نہیں کرتی تھی – اسے کسی چولہے چوکے کا کوئی خیال نہ تھا – بچوں کو بھی کئی بار باہر نکل جانے کو کہتی تھی –
ایک روز وہ سبزی کی دکان پر گر گئی ، لوگوں نے اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے وینٹے مارے تو اسے ہوش آیا اور وہ گھر گئی – تین دن کے بعد وہ فوت ہوگئی ، حالانکہ اچھی صحت مند دکھائی پڑتی تھی – جو بندے اس کے ہاں آتے تھے – انھوں نے ہی اس کے کفن دفن کا سامان کیا –
بعد میں پتا چلا کے ان کے ہاں آنے والا ایک بندہ ان کا فیملی ڈاکٹر تھا – اس عورت کو ایک ایسی بیماری تھی جس کا کوئی علاج نہیں تھا – اس کو کینسر کی ایسی خوفناک صورت لاحق تھی skin وغیرہ کی کہ اس کے بدن سے بدبو بھی آتی رہتی تھی – جس پر زخم ایسے تھے اور اسے خوشبو کے لئے اسپرے کرنا پڑتا تھا ، تا کہ کسی قریب کھڑے کو تکلیف نہ ہو – اس کا لباس اس لئے ہلکا ہوتا تھا اور غالباً ایسا تھا جو بدن کو نہ چبھے دوسرا اس کے گھر آنے والا وکیل تھا ، جو اس کے حقوق کی نگہبانی کرتا تھا – تیسرا اس کے خاوند کا چھوٹا بھائی تھا ، جو اپنی بھابھی کو ملنے آتا تھا –
ہم نے ایسے ہی اس کے بارے میں طرح طرح کے اندازے لگا لیے اور نتائج اخذ کر لیے اور اس نیک پاکدامن عورت کو جب دورہ پڑتا تھا ، تو وہ بچوں کو دھکے مار کر گھر سے نکال دیتی تھی اور تڑپنے کے لیے وہ اپنے دروازے بند کر لیتی تھی –
میرا یہ سب کچھ عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم تنقید اور نقص نکالنے کا کام الله پر چھوڑ دیں وہ جانے اور اس کا کام جانے – ہم الله کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہ اٹھائیں ، کیونکہ اس کا
بوجھ اٹھانے سے آدمی سارے کا سارا’چبہ’ ہو جاتا ہے۔ کمزور ہو جاتا ہے۔ مر جاتا ہے۔
الله تعالیٰ آپ کو آسانیاں عطا فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے آمین۔
یہ تو تھی بچپن کی کچھ یادیں۔ لیکن اگر ہم زرا سوچیں کہ ہمیں کس نے حق دیا ہے کہ کسی پر کسی قسم کی توہمت لگایں۔
ہم سب عجیب لوگ ہیں ۔ کتاب کے پہلے صفحہ سے یعنی کور پیج سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ کتاب کیسی ہو گی، کیوں ہم ہر وقت غصے کا شکار ہی کیوں رہتے ہیں۔ ہم بلاوجہ کسی کی مدد کیوں نہیں کرتے۔ کیا ہمیں ہمارہ اسلام یہی سیکھاتا ہے۔ کیا ہم نے نہیں پڑھا کے سب مسلمان اپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو ہم اپنے بھائی کی مدد کیوں نہیں کرتے ۔ ہم اپنی سوچ کو ہمیشہ منفی ہی کیوں رکھتے ہیں۔ ہمیشہ منفی رہنے سے ہماری شخصیت متاثر ہو سکتی ہے۔ ہم غلط غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں۔ جس سے ہم اپنا اور اپنے چاہنے والوں یا اپنے عزیز و اکارب کے دل دکھا تے ہیں۔
ہمیں اپنی سوچ کو ہمیشہ مثبت رکھنا چاہیے۔ کبھی بھی کسی کے بارے میں الٹا نہیں سوچنا چاہیے۔