میری سوچ

میری سوچ

ایک بہت مشہورکہاوت ہے
قطرہ قطرہ مل کے دریا بنتا ہے۔
آج میں آپ سب کو بتاتا ہوں کے اس کہاوت پے پاکستان کے لوگ کیسے عمل کر رہے ہیں ۔

پاکستان میں ہر قسم کے لوگ پاے جاتے ہیں اسی لیے یہاں ہر قسم کا مافیہ بھی سرگرم ہے۔ائے دن ایک نیا مافیہ سر اٹھا لیتا ہے اور ہر طرف سے نئی نئی خبریں گردیش میں آ جاتی ہیں۔ جسے سوچ سوچ کر ایک عام انسان پڑھائی کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی کام پے سہی سے توجہ دے سکتا ہے۔
ہمارے کالم نگار ہر روز بہت سارے ٹوپکس پے کالم لکھتے اور بہت سے پہلوں پے روشنی ڈالتے رہتے ہیں اور ہم جیسی عام عوام کو بہت ساری ضروری انفورمیشن دیتے رہتے ہیں جس سے ہمارے علم میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ہر روز ہمیں بہت کچھ سننے کو ملتا ہے اور ان میں سے زیادہ تر باتیں ہمارے لیے لمحہ ا فکریہ ہوتیں ہیں۔ کیونکہ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہ اتنے مسائل میں گھیرا ہوا ہے کہ ہر طرف ایک عجیب سی گھما گھمی چھائی ہوئی ہے۔ کبھی قصور شہر میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے قصے مشہور ہو جاتے ہیں تو کبھی پانامہ لیکس کی خبریں پھیل جاتی ہیںیا پھر کبھی بچوں کے اغوا کی خبروں سے عوام میں خوف و ہیراس سا پھیل جاتا ہے۔ اور پھر ہماری زندگی میں کچھ دیر کے لیے ہلکہ سا ٹھراؤ آتا ہے لیکن اس ہلکے سے ٹھراؤ کے بعد ہماری ذندگی پھر سے اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے اور ہم اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
لیکن آج جس ٹوپک پے میں بات کرنے جا رہا ہوں اس پے پہلے کبھی کسی نے کوئی بات نہیں کی۔ شاہد یہ کبھی کسی کی نظر سے نہ گزرا ہو۔ کیونکہ یہ ہماری عام عوام کا مسئلہ ہے۔ ہمارے ملک میں بے روزگاری تول پکڑتی جا رہی ہے۔ ہمارے ملک کی مختلف یونیوسٹیوں سے جتنے طالب علم گریجویٹ ہو رہے ہیں اتنی ہمارے ملک میں نوکریاں نہیں ہیں۔ نہ ہی گورنمنٹ اتنی تعداد میں نوکریاں پیدا کر سکتی ہیں ہر نا ہی ہماری نجی اداروں میں موجود ہیں۔جس کے نتیجہ میں ہمارے نوجوان نوکری کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اگر کہیں ایک نوکری کا اشتہار آتا ہے تو اس کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنی اپلیکیشن جمع کرواتے ہیں۔ اور انتظامیہ اس بات پے پریشان ہوتی ہے کہ اس پوزیشن کے لیے وہ ماسٹر ڈگری والے کو رکھیں یا ایم فل والے کہ ترجہی دیںیا کسی تجربے کار شخص کو منتخب کریں۔ کبھی کبھی تو انتظامیہ نوکری کے اشتہار میں ہی پاکستان کی بہترین یونیورسٹیوں کے نام لکھوا دیتی ہے کہ اسی یونیورسٹیوں کے پاس کردہ طالب علم ہی درخواست دینے کے اہل ہیں۔ اور پھر ایسی طرح بہت سارے نوجوان مایوس ہو جاتے ہیں۔
اب میں اپنے منتخب کردہ ٹوپک پے آتا ہوں۔
ُپاکستان میں میرٹ کے نام پے ایک ادارہ منظرے عام پے آئیا۔ جس کا نام میں نہ بھی لو تو ہمارے نوجوانوں کے ذہین میں خودبہ خود اس ادارے کا نام آ جائے گا۔ جس کا کام گورنمنٹ ، سیمی گورنمنٹ یا کسی بھی نجی ادارے کے لیے نوکریوں کا اشتہار دینا پھر اس پوزیشن کے لیے امتحان لینااور اسی امتحان کی بنیاد پر میرٹ کی فحرست تیار کرکے اسی ادارے کی انتظامیہ کو دینا۔
اس کے عوض وہ ادارہ ان اپلیکیشن جمع کروانے والوں سے اپلیکیشن پرسسینگ فیس لیتی ہے۔ جس سے وہ امتحان کے اخراجات اور اپنے ادارے کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ وہ نوجوان جو خود نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھر راہا ہے کیا وہ یے فیس ادا کر سکتا ہے۔؟ چلو مان لیا کے وہ یہاں وہاں سے کچھ کر کے فیس کے پیسے جمع کروا دیتا ہے اور کسی نہ کسی وجوہات کی بینہ پے اس کی اپلیکیشن منصوخ ہو جاتی ہے تو اس کی فیس جو اس نے جمع کروائی تھی وہ واپس نہیں کی جاتی۔ اور نہ ہی وہ نوجوان فیس واپسی کے لیے کوئی مطالبہ کرتا ہے۔ اگر کوئی کرنا بھی چاہے تو اس کے لیے کوئی راستہ یا کوئی طریقہ کار نہیں بنایا گیا۔
گزشتہ دنوں اِسی ادارے نے ایک گورنمنٹ کے ڈیپاٹمنٹ کے لیے 2 عہدوں کا اشتہار دیا۔ جس میں کل ملا کے 97 نوکریاں تھیں۔ نوکریاں پورے پاکستان کے لیے تھی اور اس کی اپلیکیشن پروسسنگ فیس 475 روپے تھی۔
اسی ادارے کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق ان 97 نوکریوں کے لیے اپلیکیشن دینے والے 14520 درخواست دہندگان (اپلیکنٹس) کی درخواستیں ( اپلیکیشن) منصوخ کر دی گئی ہیں۔اگر ان کی فیس کا حساب لگایا جائے تو کل ملا کے 6897000 روپے بنتے ہیں۔ اگرچہ ان 14520 اپلیکنٹس کی اپلیکیشن پروسس کے 20% پروسس میں ہی ختم کر دی گئی۔ لیکن فیس تو پوری لے لی گئی ۔ جیساکہ میں پہلے ہی عرض کر چوکا ہوں کے فیس واپس کرنے کا کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے۔ کیا ادارے کو ان اپلیکننٹس کی 80% فیس رکھنا جائز ہو گا۔ اگر ہاں تو کس حق سے اور اگر نہیں تو فیس واپس کرنے کا کوئی ذریعہ تو ہونا چاہے۔
خیر سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ 14520 درخواست تو منصوخ ہو گئی ہیں تو کتنی اپلیکیشن منضور ہوئی ہیں۔؟ ان کی اپنی ہی ویب سائیٹ کے مطابق 80100 اپلیکیشنز منضور ہوئی ہیں۔ اور اگر ان اپلیکیشنز کی فیس کا حساب لگایا جائے تو عقل حیران ہو جاتی ہے۔
یہ کل رقم 38047500 روپے بنتی ہے۔ اگر ان 2 پوزیشنز کا حساب لگایا جائے تو کل رقم 44944500 روپے بنتی ہے۔ اور میں یہ ذکر بھی کرتا چلوں کہ اس میں کچھ لوگ اسے بھی ہیں جن کا شمار نا منصوخ لوگوں میں تھا اور نا ہی منضور لوگوں کی فحرست میں تھا۔ یہ میں اس لیے اتنے یقین سے کہا رہا ہوں کے میں نے اپنے ایک دوست کا فارم خود بھجا تھا ۔ اس کے فارم کا کچھ پتہ نہیں۔ اور تو اور شکایات کرنے کے لیے اگر فون کرو تو کبھی نہیں ملتا اور اگر مل بھی جایے تو بات کو اتنا گھماتے ہیں کہ انسان خود ہی فون بند کر دیتا ہے۔
کیا یہ سوچنے کا مقام نہیں جہاں اس ملک میں نوجوان نوکریوں کے لیے بھٹک رہا ہے وہاں ایک ادارہ انہی نوجوانوں سے کروڑوں روپے بٹورنے میں لگاہوا ہے۔ 97 لوگوں کو نوکریاں دینے میں اگر اتنا خرچہ ہوتا ہے تو کیا اِن 97نوکریوں کا اشتہار پھر نہیں ائے گا۔؟ کیا یے سرکل اسے ہی چلتا رہے گا۔؟
ذرا سوچیئے! ہماری نوجوان نسل صرف 97 پوسٹس کے لیے 4 کروڑ روپے کسی ادارے کے اکاوئٹ میں آن لین کر نے کے لیے تیار ہیں ۔
۔ کیا 80100 اپلیکنٹس کا امتحان لینے میں 4 کروڑ جتنا خرچ آئے گا۔
اگر ہاں تو کیا ہمیں اسی نوکریوں کی ضرورت ہے۔؟
اگر نہیں تو کیا ہم اپنی ہی نوجوان نسل سے ناانصافی نہیں کر رہے۔؟