How to behave better?

اپنا رویہ کیسے بہتر بنائیں؟ سید قاسم علی شاہ

انسان کے دنیا میں آنے کے بعد جس شخصیت کے ساتھ پہلا تعلق بنتا ہے، وہ اس کی ماں ہوتی ہے. ماں ایک رویے کا نام ہے کیونکہ یہ شفقت ہوتی ہے جو بچے کو بتاتی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے۔ زندگی کے شروع کا طویل عرصہ ایسا ہوتا ہے جس میں انسان میں پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی، وہ جو کچھ سنتا دیکھتا ہے، قبول کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی شخصیت میں رویے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں، پھر وہی رویے اس کی ذات کے ساتھ جڑ جاتے ہیں، وہ رویےغلط بھی ہوتے ہیں اور صحیح بھی، مثال کے طور پر بندہ جب غلطی کرتا ہے تواس کے جواب میں اسے ڈانٹ پڑتی ہے. اب ڈانٹ ایک رویہ ہے، ممکن ہے یہ رویہ ٹھیک نہ ہو، یا اتنی مقدارمیں ٹھیک نہ ہو جتنی مقدار میں ملا ہو۔

زندگی کے مختلف دور ہیں. ایک دور وہ ہوتا ہے جب انسا ن اپنے والدین کے زیرِسایہ ہوتا ہے، پھر ایک وقت آتا ہے جب اسے آزادی مل جاتی ہے، اس وقت جو کچھ اس نے لاشعوری طور پر سیکھا ہوتا ہے، اس کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے، بقول شیکسپئر زندگی ایک سٹیج ہے، اس میں ہر شخص اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ زندگی کے معاملات میں جب انسان دوسروں کے ساتھ پیش آتا ہے تواس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کا رویہ اچھا ہے یا اس کا رویہ اچھا نہیں ہے، جب اس کی وجہ تلاش کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ اس نے شروع میں لاشعوری طور پرجو رویے سیکھے تھے، وہ اس کی ذات کا حصہ بن گئے۔ بچپن میں چونکہ انسان کو سمجھ بوجھ نہیں ہوتی، اور نہ ہی اس کے پاس پرکھنے کا کوئی پیمانہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے اندر ہر طرح کے رویے پیدا ہوجاتے ہیں، لیکن انسان کو چاہیے کہ جب شعور آئے تو ان رویوں پر غور و غوص کرنا شروع کر دے کیونکہ شعور کا دور بڑا قیمتی ہوتا ہے، اسی دور میں زندگی بننی ہوتی ہے۔

وہ منفی رویے جو مزاج کا حصہ بن جاتے ہیں، ان میں ایک رویہ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کا رویہ ہوتا ہے، اس رویے کو زندگی سے نکال دینا چاہیے، یہ رویہ بندے کو اکیلا کر دیتا ہے۔ بابا جی اشفاق احمدؒ فرماتے ہیں کہ مکھی کی چھیاسی آنکھیں ہوتی ہیں لیکن بیٹھتی پھر بھی وہ گند پر ہی ہے. لوگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اپنی ساری ذہانت دوسروں کے گند کو تلاش کرنے میں لگا رہی ہوتی ہے. کسی نے بڑی خوبصورت بات کی کہ اپنے بارے میں کبھی برا نہ سوچیں کیونکہ یہ کام آپ کے رشتہ دار بڑے بھلے سےایک عرصہ سے کر رہے ہیں۔ ایک رویہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کام کی بات نہیں سیکھنی بلکہ بے مقصد بات ہی سیکھنی ہے. لوگوں کو دنیا جہاں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے، جبکہ اپنے بارے میں وہ لاعلم ہوتے ہیں، اس رویے کو بھی زندگی سے نکال دینا چاہیے۔ دوسروں کی بلاوجہ بےعزتی کرنا، یہ ایک ایسا رویہ ہے جس میں بندہ چھلانگیں لگاتا ہے، اور ایسی ایسی حرکتیں کر جاتا ہےکہ حیرانگی ہوتی ہے، ایسے رویے کو بھی زندگی سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ بعض لوگ زندگی میں ابھی کچھ بنے ہوتے نہیں ہیں، لیکن پہلے سے ہی محسوس کرانا شروع کر دیتے ہیں، جیسے کئی افسروں کے بچے اپنے آپ کو افسر محسوس کراتے ہیں. کسی وزیرکا بچہ پطرس بخاری صاحب کے پاس رزلٹ کا پتہ کرنے چلا گیا اس وقت رزلٹ آنے میں ایک دو دن باقی تھے، بچے نے ان سے کہا کہ رزلٹ تو کل آنا ہے، لیکن آپ مہربانی کریں اور مجھے آج ہی رزلٹ بتا دیں، پطرس صاحب نے کہا میں تو رزلٹ آج نہیں بتا سکتا، بچے نے کہا آپ کو پتہ نہیں میں کس کا بیٹا ہوں، پطرس صاحب نے کہا مجھے نہیں پتہ، بچے نے پھر کہا کہ آپ کو نہیں پتہ میں کس کا بیٹا ہوں، پطرس صاحب نے اس بچے کے والد کوفون کیا اور کہا کہ آپ کا بیٹا پاگل ہوگیا ہے، بار بار مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ کو پتہ ہے میں کس کا بیٹا ہوں، اگر کہیں ایسا رویہ ہے تواسے بھی نکال دینا چاہیے۔

اپنے رویوں کی فہرست بنائیں، روزانہ دن کے پانچ واقعات لکھیں، مثال کے طور پر آپ دفتر میں بیٹھے تھے، کسی نے آ کر کہا آپ کی گاڑی کا کوئی شیشہ توڑ گیا، آپ فوری اس کا ردِعمل ظاہرکریں گے، آپ کا یہ ردِعمل ایک رویہ ہے اس کو لکھ لیں، اسی طرح اور معاملات پر جو رویے ہوں ان کو لکھیں، روز ایسا کرنے سے 35 رویے سامنے آ جائیں گے، اس میں سے کچھ رویے ایسے ہوں گےجو دوبارہ آئے ہوں گے، جو رویے دوبارہ آئے ہوں ان کو نکال دیں، جب یہ کانٹ چھانٹ ہو جائےگی تو یہ 20 سے زیادہ نہیں بنیں گے، اب ان رویوں پر غور کریں کہ ہمارے پاس ایک ہفتہ ہے، ہفتے میں سات دن ہیں، اور ان سات دنوں 20 رویوں کا استعمال ہوتا ہے، پھر ان کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان میں سے کون سے ایسے ہیں جن کو سیکھنا ہے، کون سے ہیں جن کو چھوڑنا ہے، کون سے ہیں جن کو قائم رکھنا ہے۔

رویوں کے سیکھنےکے حوالے سے ہمارے پاس شاندار مثالیں ہیں، ان کو دیکھ کر رویوں کو سیکھا جا سکتا ہے، ان میں بہتری لائی جا سکتی ہے، جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے رویے کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ اگر جنگ میں پانی آ رہا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم زخمی ہیں، ایک دوسرے کو کہہ رہا ہے کہ آپ پی لیں، دوسرا تیسرے کو کہہ رہا ہے کہ آپ پی لیں، تیسرا چوتھے کو کہہ رہاہے کہ آپ پی لیں، یہاں تک کہ سارے شہید ہو جاتے ہیں اور پانی وہیں رہ جاتا ہے۔ ایک رویہ یہ کہ صحابی رضی اللہ عنہ کے گھر میں مہمان آتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ اسے کھانا پیش کرتے ہیں، ساتھ ہی چراغ گل کر دیتے ہیں اور ایسے ایکٹ کرتے ہیں کہ جیسے کھانا کھایا جا رہا ہے، اور یوں مہمان سیر ہو کر کھانا کھا لیتا ہے، یہ حضوراکرم ﷺ کی وہ تربیت تھی جس سے یہ رویے پیدا ہوئے۔

ہم معاف تو کر دیتے ہیں لیکن ساتھ ہی غصے میں کہہ رہے ہوتے ہیں، یہ میری عاجزی ہے، یہ بہت بڑا تضاد ہے، اس تضاد کو ختم کریں اور معافی کا جواز تلاش نہ کریں، اگر آج آپ کسی کو معاف کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے کل کوئی آپ کے بیٹے کو معاف کر دے۔

زندگی سے لالچ کو ختم کریں اور ہاتھ کھلا کریں، دوسروں کواپنےکھانے میں شامل کریں، اگر ایسی عادت بن جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ دل میں وسعت پیدا کردے گا۔ انسان کے لیے سب سے مشکل کام اپنی کمائی سے دوسروں کو کھلانا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ میں امیر ہوں گا تومیں ہاتھ کا کھلا بنوں گا، یہ غلط ہے، اگر آج غربت میں ہاتھ نہیں کھلا تو پیسہ آنے پر بھی نہیں کھلے گا۔

درج ذیل باتوں کو اپنا کر اپنے رویوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے.
دوسروں کو آسانیاں دیں اور اپنی آسانیوں میں شامل کریں، یہ توقیق ہے اور یہ توفیق اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو دیتا ہے۔ جس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے، کم از کم اس کے لیے دعا ضرور کریں۔ کسی کی تکلیف دیکھ کر کبھی خوش نہ ہوں بلکہ اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کریں۔ آسانیاں بانٹیں گے توآسانیاں ملیں گی۔
دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانا چھوڑ دیں، روز محشر بندہ اور اللہ تعالیٰ جانے، ویسے بھی زندگی مختصر ہے، اگر وہ بھی دوسروں کے بارے میں غلط اندازے لگانے میں صرف کر دی تو پھر خود کو جج کرنے کا وقت نہیں ملے گا اور آخرت میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔
مددگار بنیں، لوگ بہت قیمتی ہوتے ہیں، پتہ نہیں کہ ہم سے منسلک بندہ کل کو کہاں پہنچ جائے۔ اگر آج کسی کی زندگی ہمارے اچھے رویے سے بن رہی ہے تواس نیکی کی اینٹ کو ضرور لگائیں تو پھر یہی نیکی ایک چین کی صورت اختیار کر لےگی اور صدقہ جاریہ ہوگی۔
اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کریں، دنیا کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں، اگر آپ ٹھیک ہوگئے تو دنیا خود بخود ٹھیک ہونا شروع ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں آسانیاں عطا کرے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف عطا کرے۔ آمین