جاب نہیں کام تلاش کرو

نوجوان کی آنکھوںمیں آنسو تھے، اس نے پلکوں پر ٹشو رکھ لیا، ہم سب چند لمحوں کے لیے خاموش ہوگئے۔ اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اس کی یہی صورتحال ہوتی،آپ ایک لمحے کے لیے خود سوچئے اگر آپ نے اچھی پوزیشن کے ساتھ ایم بی اے کیا ہو‘ اگر آپ ایک صحت مند اور خوبصورت جوان ہو لیکن آپ نوکری کے لیے جہاں بھی درخواست دیتے ہوں، آپ کو صاف جواب مل جاتا ہوتو آپ پرکیا گزرتی، آپ کارد عمل کیا ہوتا لہٰذا نوجوان بری طرح داخلی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
میں نے اس سے کہا” میں تمہیں ایک کہانی سنانا چاہتاہوں “اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں تحیر اور بے بسی تھی، میں نے عرض کیا۔”کیپ ٹاﺅن کی میڈیکل یونیورسٹی کو طبی دنیا میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا پہلا بائی پاس آپریشن اسی یونیورسٹی میں ہوا تھا‘ اس یونیورسٹی نے تین سال پہلے ایک ایسے سیاہ فام شخص کو ”ماسٹر آف میڈیسن“ کی اعزازی ڈگری دی جس نے زندگی میںکبھی سکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ جو انگریزی کا ایک لفظ پڑھ سکتا تھا اور نہ ہی لکھ سکتا تھا لیکن 2003ءکی ایک صبح دنیا کے مشہور سرجن پروفیسر ڈیوڈ ڈینٹ نے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں اعلان کیا،ہم آج ایک ایسے شخص کو میڈیسن کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں جس نے دنیا میں سب سے زیادہ سرجن پیدا کیے، جو ایک غیر معمولی استاداور ایک حیران کن سرجن ہے اور جس نے میڈیکل سائنس اور انسانی دماغ کو حیران کر دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی پروفیسر نے ہیملٹن کا نام لیا اور پورے ایڈیٹوریم نے کھڑے ہو کراس کا استقبال کیا ۔ یہ اس یونیورسٹی کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال تھا“۔

naki6

نوجوان چپ چاپ سنتا رہا۔ میں نے عرض کیا ”ہیملٹن کیپ ٹاﺅن کے ایک دور دراز گاﺅںسنیٹانی میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین چرواہے تھے، وہ بکری کی کھال پہنتا تھا اور پہاڑوں پر سارا سارا دن ننگے پاﺅں پھرتاتھا، بچپن میں اس کاوالد بیمار ہوگیا لہٰذاوہ بھیڑ بکریاں چھوڑ کر کیپ ٹاﺅن آگیا۔ ان دنوں کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی میں تعمیرات جاری تھیں۔ وہ یونیورسٹی میں مزدور بھرتی ہوگیا۔اسے دن بھر کی محنت مشقت کے بعد جتنے پیسے ملتے تھے ،وہ یہ پیسے گھر بھجوا دیتاتھا اور خود چنے چبا کر کھلے گراﺅنڈ میں سو جاتاتھا۔وہ برسوں مزدور کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ تعمیرات کا سلسلہ ختم ہوا تو وہ یونیورسٹی میں مالی بھرتی ہوگیا۔ اسے ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے کا کام ملا، وہ روز ٹینس کورٹ پہنچتا اور گھاس کاٹنا شروع کر دیتا ، و ہ تین برس تک یہ کام کرتا رہا پھر اس کی زندگی میں ایک عجیب موڑ آیا اور وہ میڈیکل سائنس کے اس مقام تک پہنچ گیا جہاںآج تک کوئی دوسرا شخص نہیں پہنچا۔ یہ ایک نرم اور گرم صبح تھی“۔
نوجوان سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔ میں نے عرض کیا ”پروفیسر رابرٹ جوئز زرافے پرتحقیق کر رہے تھے، وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے جب زرافہ پانی پینے کے لیے گردن جھکاتا ہے تو اسے غشی کا دورہ کیوں نہیں پڑتا، انہوں نے آپریشن ٹیبل پر ایک زرافہ لٹایا، اسے بے ہوش کیا لیکن جوں ہی آپریشن شروع ہوا زرافے نے گردن ہلا دی چنانچہ انہیں ایک ایسے مضبوط شخص کی ضرورت پڑ گئی جو آپریشن کے دوران زرافے کی گردن جکڑکر رکھے۔ پروفیسر تھیٹر سے باہر آئے، سامنے ہیملٹن گھاس کاٹ رہا تھا، پروفیسر نے دیکھا وہ ایک مضبوط قد کاٹھ کا صحت مند جوان ہے۔ انہوں نے اسے اشارے سے بلایا اور اسے زرافے کی گردن پکڑنے کا حکم دے دیا۔ ہیملٹن نے گردن پکڑ لی، یہ آپریشن آٹھ گھنٹے جاری رہا۔ اس دوران ڈاکٹر چائے اور کافی کے وقفے کرتے رہے لیکن ہیملٹن زرافے کی گردن تھام کر کھڑا رہا۔ آپریشن ختم ہوا تو وہ چپ چاپ باہر نکلا اور جا کر گھاس کاٹنا شروع کردی۔ دوسرے دن پروفیسر نے اسے دوبارہ بلا لیا، وہ آیا اور زرافے کی گردن پکڑ کر کھڑا ہوگیا، اس کے بعد یہ اس کی روٹین ہوگئی وہ یونیورسٹی آتا آٹھ دس گھنٹے آپریشن تھیٹر میں جانوروں کو پکڑتا اور اس کے بعد ٹینس کورٹ کی گھاس کاٹنے لگتا، وہ کئی مہینے دوہراکام کرتا رہا اور اس نے اس ڈیوٹی کاکسی قسم کااضافی معاوضہ طلب کیااور نہ ہی شکایت کی۔ پروفیسر رابرٹ جوئز اس کی استقامت اور اخلاص سے متاثر ہوگیا اور اس نے اسے مالی سے ”لیب اسسٹنٹ“ بنا دیا۔

naki

ہیملٹن کی پروموشن ہوگئی۔ وہ اب یونیورسٹی آتا، آپریشن تھیٹر پہنچتا اور سرجنوں کی مدد کرتا۔ یہ سلسلہ بھی برسوں جاری رہا۔ 1958ءمیں اس کی زندگی میں دوسرا اہم موڑ آیا۔ اس سال ڈاکٹربرنارڈ یونیورسٹی آئے اور انہوں نے دل کی منتقلی کے آپریشن شروع کردیئے۔ ہیملٹن ان کا اسسٹنٹ بن گیا، وہ ڈاکٹر برنارڈ کے کام کو غور سے دیکھتا رہتا، ان آپریشنوں کے دوران وہ اسسٹنٹ سے ایڈیشنل سرجن بن گیا۔ اب ڈاکٹر آپریشن کرتے اور آپریشن کے بعد اسے ٹانکے لگانے کا فریضہ سونپ دیتے، وہ انتہائی شاندار ٹانکے لگاتا تھا، اس کی انگلیوں میں صفائی اور تیزی تھی، اس نے ایک ایک دن میں پچاس پچاس لوگوں کے ٹانکے لگائے۔ وہ آپریشن تھیٹر میں کام کرتے ہوئے سرجنوں سے زیادہ انسانی جسم کو سمجھنے لگا چنانچہ بڑے ڈاکٹروں نے اسے جونیئر ڈاکٹروں کو سکھانے کی ذمہ داری سونپ دی۔ وہ اب جونیئر ڈاکٹروں کو آپریشن کی تکنیکس سکھانے لگا۔وہ آہستہ آہستہ یونیورسٹی کی اہم ترین شخصیت بن گیا۔ وہ میڈیکل سائنس کی اصطلاحات سے ناواقف تھا لیکن وہ دنیا کے بڑے سے بڑے سرجن سے بہترسرجن تھا۔ 1970ءمیں اس کی زندگی میں تیسرا موڑ آیا، اس سال جگر پر تحقیق شروع ہوئی تو اس نے آپریشن کے دوران جگر کی ایک ایسی شریان کی نشاندہی کردی جس کی وجہ سے جگر کی منتقلی آسان ہوگئی۔ اس کی اس نشاندہی نے میڈیکل سائنس کے بڑے دماغوں کو حیران کردیا، آج جب دنیا کے کسی کونے میں کسی شخص کے جگر کا آپریشن ہوتا ہے اور مریض آنکھ کھول کر روشنی کو دیکھتا ہے تو اس کامیاب آپریشن کا ثواب براہ راست ہیملٹن کو چلا جاتا ہے،اس کا محسن ہیملٹن ہوتا ہے“ میں خاموش ہو گیا۔

Naki5

نوجوان سنتا رہا، میں نے عرض کیا ”ہیملٹن نے یہ مقام اخلاص اور استقامت سے حاصل کیا۔ وہ 50 برس کیپ ٹاﺅن یونیورسٹی سے وابستہ رہا، ان 50 برسوں میں اس نے کبھی چھٹی نہیں کی۔ وہ رات تین بجے گھر سے نکلتا تھا، 14 میل پیدل چلتا ہوا یونیورسٹی پہنچتا اور ٹھیک چھ بجے تھیٹر میں داخل ہو جاتا۔ لوگ اس کی آمدورفت سے اپنی گھڑیاںٹھیک کرتے تھے، ان پچاس برسوں میں اس نے کبھی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ نہیں کیا، اس نے کبھی اوقات کار کی طوالت اور سہولتوں میں کمی کا شکوہ نہیں کیا لہٰذا پھر اس کی زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب اس کی تنخواہ اور مراعات یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے زیادہ تھیں اور اسے وہ اعزاز ملا جو آج تک میڈیکل سائنس کے کسی شخص کو نہیں ملا۔ وہ میڈیکل ہسٹری کاپہلا ان پڑھ استاد تھا۔ وہ پہلا ان پڑھ سرجن تھا جس نے زندگی میں تیس ہزار سرجنوں کو ٹریننگ دی، وہ 2005ءمیں فوت ہوا تو اسے یونیورسٹی میںدفن کیاگیا اور اس کے بعدیونیورسٹی سے پاس آﺅٹ ہونے

والے سرجنوں کے لیے لازم قرار دے دیا گیا وہ ڈگری لینے کے بعد اس کی قبر پر جائیں، تصویر بنوائیں اور اس کے بعد عملی زندگی میں داخل ہوجائیں“ میں رکا اور اس کے بعد نوجوانوں سے پوچھا ”تم جانتے ہو اس نے یہ مقام کیسے حاصل کیا“ نوجوان خاموش رہا، میں نے عرض کیا ”صرف ایک ہاں سے‘ جس دن اسے زرافے کی گردن پکڑنے کے لیے آپریشن تھیٹر میں بلایا گیاتھا اگر وہ اس دن انکار کردیتا، اگر وہ اس دن یہ کہہ دیتا میں مالی ہوں میرا کام زرافوں کی گردنیں پکڑنا نہیں تو وہ مرتے دم تک مالی رہتایہ اس کی ایک ہاں اور آٹھ گھنٹے کی اضافی مشقت تھی جس نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیئے اور وہ سرجنوں کا سرجن بن گیا“ ۔

Naki4

نوجوان خاموش رہا، میں نے اس سے عرض کیا ”ہم میں سے زیادہ تر لوگ زندگی بھر جاب تلاش کرتے رہتے ہیں جبکہ ہمیں کام تلاش کرنا چاہیے“ نوجوان نے غور سے میری طرف دیکھا، میں نے عرض کیا” دنیا کی ہر جاب کا کوئی نہ کوئی کرائی ٹیریا ہوتا ہے اور یہ جاب صرف اس شخص کو ملتی ہے جو اس کرائی ٹیریا پر پورا اترتا ہے جبکہ کام کا کوئی کرائی ٹیریا نہیں ہوتا۔ میں اگر آج چاہوں تو میں چند منٹوں میں دنیا کا کوئی بھی کام شروع کر سکتا ہوں اور دنیا کی کوئی طاقت مجھے اس کام سے باز نہیں رکھ سکے گی۔ ہیملٹن اس راز کو پا گیا تھالہٰذا اس نے جاب کی بجائے کام کو فوقیت دی یوں اس نے میڈیکل سائنس کی تاریخ بدل دی۔ ذرا سوچو اگر وہ سرجن کی جاب کیلئے اپلائی کرتا تو کیا وہ سرجن بن سکتا تھا؟ کبھی نہیں، لیکن اس نے کھرپہ نیچے رکھا، زرافے کی گردن تھامی اور سرجنوں کا سرجن بن گیا“ میں رکا اور ہنس کر بولا ”تم اس لیے بے روزگار اور ناکام ہو کہ تم جاب تلاش کر رہے ہو، کام نہیں، جس دن تم نے ہیملٹن کی طرح کام شروع کردیا تم نوبل پرائز حاصل کر لوگے، تم بڑے اور کامیاب انسان بن جاﺅ گے۔۔۔۔

Naki3