: گلوبلا ئزیشن کیا ہے۔؟ — تحریر جلال صابر:

دنیا کا کوئی ملک بھی خود کفیل نہیں ہے۔ کسی کے پاس زراعت ہے تو تیل نہیں۔ تیل ہے تو ٹیکنالوجی نہیں۔ ہر ملک کے پاس کسی نا کسی چیز کی کمی ہوتی ہے۔ کسی کو گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور کسی کے پاس گاڑیاں ایتنی ہو جاتی ہیں کہ اس کے ملک میں اس کے ضرورت نہیں رہتی۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اسے وہ چیز خوا وہ زراعت کی شکل میں ہو یا تیل یا کوئی بھی ایسی ٹیکنالوجی ہو جس کی اس ملک میں ضرورت نہیں رہتی وہ کسی دوسرے ملک کوفروخت کرنی پڑتی ہے۔ اور اس کے متبادل وہ اس ملک سے یا تو کوئی ایسی پیداوار طلب کر سکتا ہے جس کی اس ملک میں کمی ہوتی ہے یا کرنسی کے بدلے تبدیل کر لیتے ہیں۔ اس تبادلے کے عمل کو گلوبلائزیشن کہتے ہیں۔

یہ مربوط عالمی معیشت بذات خود کوئی منفی عمل نہیں ہے کیونکہ یہ ایک ایسی بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر ملکوں کی معیشت پروان چڑہتی ہے۔ ایک ایسے نظام کے تحت جس کی بنیاد سماجی انصاف اور ذرائع پیداوار خوا وہ ذراعت ہو ، تیل ہو یا کسی ٹیکنالوجی ہارڈ ویئر یا سافٹ ویئر کی شکل میں ہو یہ انسانیت کے لیے ایک زبردست پیش رفت کا باعث بن سکتی ہے۔ لیکن مشکل تب پیش آتی ہے جب لوگوں میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی ہوس پیدا ہوجاتی ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جہاں مٹھی بھر لوگ بے حدوحساب دولت جمع کر لیتے ہیں اور اسی دنیا پر بسنے والے لوگوں کا معیار زندگی کم سے کم تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
پس منظر۔
امریکا کو جب لگا کہ وہ دوسری جنگ عظیم میں کامیاب ہو جائے گا تو اس نے اپنے اتحادیوں کی سربراہی کرتے ہوئے ایک تجارتی اور سرمایہ دارانہ نظام متعارف کرویا۔ 1944 میں قائم ہونے والے اس عالمی معاشی نظام کو دنیا بھر میں درپیش معاشی مسائل کا واحد حل سمجھا جانے لگا۔ لیکن دوسری طرف سوویت یونین نے جو اشتراکیت کا نظام متعارف کروایا وہ آزادنہ تجارت کی نفی کرتا ہے۔ لیکن جب1991 میں سرد جنگ ختم ہوئی تو سوویت یونین کے نظام کو بھی بری طرح شکست ہوئی۔ اس کے بعد امریکا کے صدر سینئر جارج بش نے ایک نئی گلوبل پولیسی پیش کی جس میں جمہوریت کے پھیلائو اور آزادنہ تجارت کرنے کی اجازت دی گئی۔ گزشتہ 26 سال سے دنیا اسی پولیسی کے پیش نظر آزادنہ تجارت کر رہی ہے۔ اور اپنی پیداوار دوسرے ملکوں کو بیچ رہے ہیں اور اپنی معشیت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔

دوسرا نظریہ۔
ایک مشہورماہر معاشیات ایڈم اسمتھ کا کہنا ہے کہ 15 ویں صدی میں جب یورپ نے خام مال اور اپنی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنا شروع کی تھیں تب سے یہ عمل شروع ہوا تھا۔ اس زمانے میں لوگ یورپ سے اپنا خام مال اور اپنی اپنی مصنوعات اونٹھوں پر لاد کر میلوں کا سفر کرتے تھے اور اپنا مال دوسرے ملکوں میں بیچ کے واپس اپنے ملک لوٹتے تھے۔ اسی طرح کچھ لوگ دوسرے ممالک میں ہی بس جاتے اور وہاں اپنا کام دوسروں کو سیکھاتے اور ان سے ان کا کام سیکھتے اورپھر واپس اپنے ملک لوٹ کر وہی کام شروع کرتے اس طرح لوگ دوسرے علاقے کی تہزیب اور ثقافت بھی سیکھ جاتے اور کام بھی۔
لیکن اج کل کے ماہرین کا کہنا ہے یورپ کے لوگ ہجرات کر کے جاتے تھے اور کئی کئی سال لگا دیا کرتے تھے یہ تہزیب اور ثقافت کے لیے ایڈم اسمتھ کی تھیوری ٹھیک تھی لیکن تجارت کے جو دروازے 1944 کے بعددنیا میں کھلے اس سے پہلے تواس طرح کا کوئی تصاور بھی نہیں تھا۔ کیوںکہ معاشیات کا فارمولا ہے کہ اگر کسی چیز کی مانگ کم ہو جائے تو اس چیز کی قدر میں کمی ہو جاتی ہے۔ اور یہی ہو رہا تھا فیکٹریاں اور کارخانے اپنے ملک کی مانگ مکمل کرتے پھر بند ہوجاتے تھے۔

دیکھا جائے تو جہاں مانگ کی کمی کی وجہ سے فیکٹریاں اور کارخانے بند ہو رہے تھےاور وہاں کے لوگ بے روزگار ہو رہے تھے ۔ان کی محنت ضائع ہو رہی تھی اور وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرنے پر مجبور ہو رہے تھے۔ لیکن جب یہ تجارت دوسرے ممالک کے ساتھ شروع ہوئی تو دوسرے ملک سے مانگ بڑھنے لگی تو وہی فیکٹریاں اور کارخانےدوبارہ آباد ہو گے ۔ کام دوبارہ شروع کر کے اپنے اور اپنے ملک کے لیے لوگ کام کرنے لگے۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے مختلف ممالک میں فیکٹریوں اور کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور تجارت کو ایک نئی رہ پر گامزن کر گیا۔
اور دوسری طرف جن ممالک کے پاس اپنی صلاحیات کو بروئے کار لانے کے لیے وسائل نہیں تھے وہاں دوسرے ممالک نے کچھ مالی معاہدہ کرتے ہوئےاپنے وسائل اس ملک میں لگائے اور اپنی اور اس ملک کی تقدر بدل کے رکھ دی۔ اس کی مثال سعودی عرب ہمارے سامنے ہے۔
جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی اسی کے ساتھ گلوبلائزیشن نے بھی دنیا کو ایک گلوبل ویلیج یعنی عالمی گائوں بنا دیا۔