ڈی جی خان کے قبائلی علاقے۔

زیر نظر تصاویر ڈی جی خان کے قبائلی علاقے یوسی بارتھی کے قریب تمن بزدار کی ہے ۔یہ علاقہ بد قسمتی سے ایسے محترم سردار صاحب کے گھر کے قریب ہے جنکو اپنے قوم نے سب سے زیادہ عزت و محبت دی اور جو مسلسل دو بار تحصیل ناظم قبائلی علاقہ ڈی جی خان رہے تمام یوسی چئیرمین انکے گھر کے تھے ۔تین بار انکے والد محترم ایم پی اے رہے۔اس وقت کے حکومتی ایم این اے انہیں کے ہمایت یافتہ ہیں اور انکی ہر بات کو مکمل طور پر مانتے ہیں۔ اور حکومتی ن لیگی امیدوار ہونے کی وجہ اس حلقے کے موجودہ اپوزیشن صوبائی ممبر اسمبلی کے فنڈز بھی انہیں محترم سردار صاحب کو ملے ہیں جو الیکشن ہار کر بھی فنڈز اور دیگر مراعات لینے میں کامیاب رہے پنجاب بھر کی طرح جو ن لیگ کی پالیسی کا حصہ تھی کہ جہاں اپوزیشن جماعت کا ممبر اسمبلی ہو وہاں کے فنڈز ہارے ہوئے ن لیگی امیدوار کو دئیے جائے۔محترم سردار صاحب خود ڈی جی خان اور ملتان میں عالی شان رہائش رکھتے ہیں فلٹریشن کا پانی پیتے ہیں دیگر سردار صاحبان کی طرح ۔اگر کوئی انہیں یہ کہے کہ سردار صاحب آپ تیرہ سال تک برسر اقتدار

IMG_5500

رہے اور اس وقت بھی تمام حکومتی فنڈز آپکو مل رہے ہیں۔سردار صاحب صرف پینے کا پانی تو دیتے تو جواب بڑا دلچسپ ہوتا کہ یہ جو بھی بات کررہا ہے پانی کی یہ ہمارا سیاسی مخالف ہے اب سردار صاحب کو کون سمجھائے کہ حضور والا وقت بدل چکا ہے جناب لوگ اب سوال کرتے ہیں اور لوگ جانتے ہیں کہ تمام فنڈز موجودہ دور میں بھی آپ کو ملے ہیں اگر کسی کو شک ہے تو میں کاغذات دیکھانے کو تیار ہو خواہ مخواہ بحث سے بچنے یا الزام تراشی نہیں کررہا ہمارے لیے بھی سردار صاحب قابل احترام ہیں مگر حقائق تو حقائق ہیں ۔یہ گندے کنویں کا پانی ڈبو میں بھر کر گھروں کو لے جایا جارہے صرف تصاویر میں دیکھے کہ آج کے اکیسویں صدی میں بھی حضرت آدم کا دور قبائلی علاقے میں چل رہا ہے ویسے یہ حالت صرف تمن بزدار کی تمن قیصرانئ تمن کھوسہ تمن لغاری جہاں پر ہر تمن مطلب قوم میں انکا اپنا سردار ایم پی اے یا ایم این اے ہے اور آج بھی جوہڑوں کا پانی پیا جاتا ہے لیکن تمن بزدار علاقے اور آبادی کے لحاظ سے قبائلی علاقے کی سب سے بڑی قوم اور علاقے پر مشتمل لوگ ہیں اور یہ کوئی سو دو سو افراد نہیں جو یہ پانی پیتے ہیں بلکہ تقریبا دو لاکھ سے زائد قبائلی یہ پانی پینے پر مجبور ہیں اکثریت مقام پر گڑھے بنا کر ان میں

IMG_5502

بارش کا پانی جمع ہوتا ہے پھر انسان جانور گدھے کتے سب اسی جوہڑ کا پانی پیتے ہیں لیکن محترم سردار عثمان خان بزدار صاحب اس قبائلی علاقہ کے دو بار تحصیل ناظم رہے جو انکے لیے باعث اعزاز بات تھی تو وہی پر کاش اپنے دور میں آنے والے کروڑوں روپے کا صہیح استعمال کرکے قبائلیوں کو پینے کا پانی فراہم کرتے تو آج شکست انکا مقدر نہ ہوتی بلکہ سردار صاحب ایم پی اے ہوتے المیہ یہی ختم نہیں ہوتا بلکہ شکست کے بعد بھی سبق نہ لے سکے اور اپنے ن لیگی ہونے کا فائدہ کے ثمرات اب بھی پسماندہ ترین علاقے تک نہ پہنچا سکے اور تمام حکومتی فنڈز ملنے کے باوجود بھی علاقے کی حالت پر انہیں ترس نہ آسکا۔اس لیے آج ہر روز ایک نوجوان انکے سامنے الیکشن لڑنے کی بات کرتا ہے اسکی وجہ یہ استحصال ہے جو انکے دور میں شروع ہوا اور آج بھی جاری ہے کیونکہ موجودہ وقت میں الیکشن ہار کر بھی حکومتی امیدوار ہونے کی وجہ سے کروڑوں کے فنڈز سردار صاحب کو ملے۔ جس طرح تحصیل ناظمات میں انہیں کروڑوں روپے مشرف کے دور میں ملے اور ڈی جی خان میں واحد تحصیل ناظم کا دفتر تھا جہاں نظامت ختم ہونے کے بعد ریکارڈ روم کے کمرے مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی تھی اور سب ریکارڈ جل کر راکھ بن گیا تھا
IMG_5501
قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں سردار عثمان خان بزدار صاحب اپنے تحصیل نظامت کے دور کے دو چار ایسے منصوبے تو بتادیں کہ لوگ ان پر رشک کرسکیں مگر افسوس اگر زیادہ حقائق لکھے تو سیاسی مخالف کا رنگ دیکر بات کو متنازعہ بنانے کی روائیتی کوشش کی جاتی ہےافسوس کے سواء اور کچھ نہیں کہا جاسکتا اور اب پھر الیکشن قریب ہے دیکھتے ہیں کہ عوامی عدالت انکے لیے کیا فیصلہ کرتی ہے مجھے نی سردار عثمان خان سے قطعا کوئی ذاتی رنجش ہے نہ محبت اور نہ ہی الحمد اللہ آج تک ان سے کسی قسم کا اپنے گیارہ سال کے صحافت میں کوئی ذرا سا فائدہ لیا نہ ہئ کسی اور سردار صاحب کوئی مفاد اٹھایا کسی بھی طرح کا ۔ میرے لیے بطور صحافی سب برابر ہیں مگر حقائق کو مسخ نہیں کیا جاسکتا کہ کاش سردار صاحب اللہ کے نام پر ہی اپنے قوم کے ساتھ ذرا سی تو ہمدردی کرتے تو آج حالت یہ تصاویر والی نہ ہوتی ایک آخری بات میں نے اس مسلئے پر اس وقت بھی لکھا تھا دو ہزار سات میں جب سردار صاحب پورے جاہ جلال میں تھے اور میں ایک ٹی وی چینل میں روپورٹر تھا میرے سچ لکھنا سردار صاحب کو اس وقت بھی اتنا گراں گزرا تھا کہ میرے چینل ہی پہنچ گئے تھے کہ آپکا نمائندہ غلط خبریں لگتا ہے اب سردار صاحب کو کیا معلوم کہ آپ اپنے قوم کے سردار تو ہوسکتے ہیں میڈیا کے نہیں اور چینل والوں نے انہیں صاف جواب دے دیا تھا میں نے اس وقت یہی گستاخی کہ تھے آج سے دس سال پہلے کے سردار صاحب کے پاس کروڑوں روپے موجود تحصیل ناظم میں اور علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔سردار صاحب یہ غلطی اور گستاخی اس وقت تک ہوتی رہیگی جب تک عوامی کو پینے کا پانی نہیں مل جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔