بچوں کی سوچ اور سوالات – تحریر : کاشف شہزاد

محمّد عبدللہ (جو کے تیسری جماعت کا طالب علم ہے ) آج اسکول سے نکلا تو اداس تھا . باپ نے پوچھا کیا بات ہے بیٹا آپ پریشان کیوں ہو بیٹے نے جواب دیا بابا آج میرے ایک کلاس فیلو کا نیا بیگ ٹوٹ گیا ہے . باپ نے پوچھا تو اس میں آپ کیوں پریشان ہو کونسا آپ کا بیگ ٹوٹا ہے ؟ عبدللہ نے اپنے باپ سےسوال کیا .بابا اگر میرا نیا بیگ ٹوٹ جاتا تو آپ مجھے کیا کہتے ؟
باپ کے لیے یہ سوال کافی خیران کن تھا . بہرحال اس نے کچھ دیر توقف کے بعد جواب دیا کے بیٹا میں آپ سے وجہ پوچھتا کے ایسا کیوں ہوا ہے اور کیسے ہوا ہے . بیٹے نے پھر پوچھا نہیں بابا آپ نے مجھے غصے ہونا تھا . باپ نے جواب دیا نہیں بیٹا میں آپ کو سمجھاتا کے جو ہو گیا ہے اس کو چھوڑو آئندہ ایسے نہیں ہونا چاہئیے . باپ نے اسے نصیحت کی کہ بیٹا ” جو چیز واپس آ سکتی ہے اس کے لیے کبھی لڑائی نہیں کرنی “. ابھی وہ بیٹے کو مطمئن کر کے بیٹی کی طرف متوجہ ہوا تھا کے بیٹے کی طرف سے ایک اور سوال آیا جو کے پہلے سے زیادہ عجیب تھا . بیٹے نے پوچھا

Child1 ٢) بابا اس کے بیگ کے ٹوٹنے سے مجھے کیوں تکلیف ہوئی ہے ؟
باپ نے جواب دیا بیٹا آپ کے اندر ایک بہت اچھا اور نرم دل بچہ ہے جس کو کسی اور کے نقصان پر تکلیف ہوئی ہے . اس کا مطلب ہے کے آپ کے دل میں دوسروں کے لیے درد ہے . باپ نے بات ختم کرتے ہوے دونوں بچوں کو گھر اتارا اور کھانا کھانے کی تیاری کرنے لگے . اگلی شام کو وہ دوبارہ اپنے باپ کے پاس آیا اور سوال کرنے کی اجازت مانگی . اجازت ملنے پر پوچھا ” بابا آپ کہتے ہیں کے ساری چیزیں ، سارے بندے اور ساری دنیا الله نے بنائی ہے تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ الله کو کس نے بنایا ہے ؟ ” اپنی خیرانگی پر غیر محسوس طریقے سے قابو پاتے ہوے باپ نے جواب دیا “بیٹا الله کو کسی نے نہیں بنایا . وہ شروع سے لے کر آخر تک موجود ہے . دنیا حتم ہو جاے تب بھی وہ موجود ہے “. شاید اسے بات پوری طرح سمجھ نہیں آئ تھی اسلئے فورا بولا ” اچھا یہ بتائیں الله سے پہلے کون تھا ؟” . اس سے پہلے کہ حفگی کے تاثرات نمایاں ہوتے اور باپ بچے کو ڈانٹ دیتا ؛ باپ نے بڑے اطمینان سے بیٹے سے کہا ” دس سے الٹی گنتی گنو ” اس نے الٹی گنتی گننی شروع کر دی اور زیرو پر پہنچ کر روک گیا . باپ نے فورا سوال کیا ” بیٹا زیرو پر روک کیوں گے ہو اس سے پیچھے کیا ہے ؟ بیٹا بولا بابا اسکے پیچھے تو کچھ نہیں ہے . باپ نے فورا اسی کی بات کو آگے بڑھایا اور کہا بیٹا اسی طرح الله کے پیچھے بھی کچھ نہیں ہے . ہر طرح اور ہر جگہ الله ہے . لاجواب تو وہ ہو گیا تھا لیکن مطمئن نہیں . باپ نے صورتخال کو تبدیل کرتے ہوے اسے کوئی اور کام کہہ دیا . اس بچے کا پورا نام محمّد عبدللہ کاشف تھا.
حضور والا سوال تو کئی اٹھتے ہیں لیکن میں صرف چند کی طرف توجہ مبذول کروانا چاہوں گا

child2 ١) کیا ہم اپنی رکی ہوئی سوچ کے ساتھ آج کل کے بچوں کی تربیت کر سکتے ہیں ؟
٢) کیا ہماری ہر وقت کی ڈانٹ بچے کے لیے صحیح ہے ؟
٣) کیا ہمارے پاس بچوں کے سوالات کے جوابات ہیں ؟
٤) کیا ہم میں بچوں کو سمجھانے کے لیے بچوں کے لیول پر جانے کی صلاحیت موجود ہے ؟
٥) کیا ہم بغیر کوئی روک ٹوک کیا بچے کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں ؟
٦ ) کیا ہمیں اپنے سمجھانے /روک ٹوک کرنے کا انداز کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ؟
میں اس سارے سوالات کے جوابات آپ لوگوں پر چھوڑتا ہوں . اس امر کی شدّت سے ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو بہتر بنائیں تاکے آنے والی نسل کی تربیت ہو سکے . الله تعالہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے بچوں کو اچھی طرح سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق عطا کرے . الله آپ کا حامی و ناصر ہو . آمین
نوٹ : خواہش ہے کہ بچوں اور انکی تربیت پر ایک پورا آرٹیکل لکھوں. الله سے دعا ہے کہ وہ توفیق برقرار رکھے .آمین
تحریر : کاشف شہزاد