: برما :

تقریبا 400 ق م گوتم سدھارتھ مگدھ میں پیدا ہوا اور بدھ کے نام سے مشہور ہوا اس کے ماننے والے بدھ مت مذہب کے پیروکار بنے۔‏اس کے ہمعصر میں مہابیر بنا جس کے ماننے والے جین مت کے پیروکار بنے, بدھ مگدھ, راجوڑی, کاٹھیاوار ہی جیا تمام زندگی وہیں گزاری اور وہیں مر گیا۔‏بدھ مت اور جین مت 2 صدیوں تک مکمل مقامی علاقائی مذہب کی شکل میں موجود رہے, مہاراجہ اشوک دا گریٹ تاریخ کے طاقتور ترین حاکموں میں تھا۔‏کلنگ کی فیصلہ کن جنگ کے بعد اشوک وردھن نے بدھ مذہب اختیار کر لیا اور اپنی مملکت سمیت تمام دنیا میں اس کو پھیلانے کا کام شروع کیا۔‏اشوک وردھن موجودہ ہندوستان, پاکستان, ایرانی سیستان, افغانستان, ترکمنستان, منی پور, برما, لنکا, آسام, تبت اور نیپال پہ حکومت کرتا تھا۔‏اس کے برابری کے سطح کے تعلقات یونانی آگسٹس و فلٹائین کے ساتھ تھے, تمام دنیا میں مذہبی و سفارتی وفود بدھ مذہب کو پھیلانے کے لئے بھیجے گئے۔‏طاقتور ملک کا طاقتور حاکم تھا لوگ اس کے وفد کو عزت و جگہ دیتے تھے, تھائی لینڈ, جاپان, چین سمیت یونان, جرمنی, عراق وغیرہ میں پذیرائی ہوئی۔
‏اشوک کی کوششوں سے علاقائی مذہب بدھ مت ایک عالمگیر مذہب بنتا چلا گیا اور عیسی علیہ السلام کے آنے سے پہلے بلاشبہ دنیا کا بڑا مذہب بن گیا۔
‏تفصیل کو چھوڑتے ہوئے مزید آگے چلتے ہیں عیسائیت آئی لیکن بدھ مت کو اتنا نقصان نا پہنچا سکی خاص طور ایشیا میں جبکہ یورپ میں کامیاب رہی۔‏بھارت میں بکرماجیت و ناگ راج نے مقامی طور بدھ مذہب کی بیخ کینی کی پھر اسلام کی روشنی دنیا میں وارد ہوئی, اسلام سیستان, افغانستان, بنگالہ
‏اور ماورا والنہر کے راستے بدھ مت اور جین مت کو کھاتا چلا گیا,تاریخ عددی تعداد بتانے سے قاصر ہے لیکن جین و بدھ گنتی کی حد سے باہر مسلمان ہوئے۔‏اگر آپ تھائی لینڈ یا سری لنکا جائیں تو آپ کو گوتم کی مورتیوں کے ساتھ کئی مقام پہ اشوک وردھن کی مورتیاں بھی ملیں گی اشوک کا مقام نمبر دوم ہے۔‏اسی طرح اگر آپ بدھ مت کی کتابیں اور صحیفے ملیں تو آپ کو اسلام و مسلمان ایک دشمن کے طور واضح نظر آئیں گے یہ صدیوں پرانی عصیبت ہے۔‏وقت گزرا پھر کمیونزم وارد ہوا, بدھ مت اور کمیونزم ایک سکے کے دو رخ ہیں, بدھا زندگی گزارنے کے اصول نہیں دیتا وہ اصول کمیونزم سے حاصل کئے گئے۔‏اگر آپ کمیونزم کا مطالعہ کریں تو اس کی راہ میں بھی رکاوٹ اسلام قرار دی جاتی ہے, نفرت کا معاملہ دوہرا ہو گیا, برما ابتدا ہے انتہا ترکمانستان ‏و پاکستان پہ ہو گی,ہمارا دیرینہ دوست چین کمیونسٹ و بدھ مت ہے,برما کو چین کی مکمل حمائیت حاصل ہے, تاریخ کا سفاک قتل عام مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔‏اسی کی ابتدا چین اپنے صوبے زنکیانگ میں اوگر مسلم کے ساتھ کر چکا ہے, ماضی کے دھارے تو نہیں بدلنے لیکن مستقبل بدلا جا سکتا ہے یہی عملی کوشش ہے۔‏برما ٹیسٹ کیس ہے اگر اس کو روکنے میں ہم کامیاب ہو گئے تو ترکمانستان اور پاکستان کی بچت ہو گی ورنہ وہی ماڈل یہاں اپنایا جائے گا۔‏آواز اٹھائیں برما کے لئے یہ آپ کا مذہبی, دنیاوی, اخلاقی اور اپنی و اپنی نسل کی بقا کا مسئلہ ہے
آواز اٹھائیں کہ رب کے سامنے بھی پیش ہونا ہے۔

تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے!(القرآن)

۔شکریہ